اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 99

آیت کے آخری حصہ میں واضح طور پر تنبیہ کر دی گئی ہے کہ یہ نصیحت انسان کے اپنے فائدہ کے لئے ہی کی گئی ہے۔یوں اس بنیادی اور مرکزی آیت میں اسلام کے سماجی نظام کے اہم خدو خال واضح کر دیئے گئے ہیں۔یہ بھی یادر ہے کہ اس آیت کا پہلا حصہ بھی اسلام کی معاشرتی تعلیمات سے گہرا ربط رکھتا ہے۔ایک ایسا معاشرہ جسے دوسرے انسانوں کی تکالیف کا احساس نہ ہو اور جو انسانیت کی خدمت کے دائمی ا جذبہ سے خالی ہو ہرگز اسلامی معاشرہ نہیں کہلا سکتا خواہ اسلام کی سماجی تعلیمات کے دوسرے پہلوؤں سے وہ کتنی ہی مطابقت کیوں نہ رکھتا ہو۔آئیے اب ہم اسلامی معاشرہ کی بعض اور خصوصیات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔اسلام نے اخلاص، دیانت داری اور وفا شعاری پر بڑا زور دیا ہے۔اسلام ہر اس امر اور اقدام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ میں ذہنی اور قلبی آسودگی پیدا ہوتی ہے۔عیش وعشرت کی تلاش جس قسم کے معاشرتی بگاڑ اور عدم توازن پر منتج ہو سکتی ہے اسے روکنے کے لئے بھی کئی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ہر ایسے طرز عمل کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو معاشرہ کو بے لگام جنسی آزادی کی طرف لے جا سکتا ہے خواہ آغاز میں وہ کتنا ہی بے ضرر کیوں نہ دکھائی دے۔جنسی آزادی کئی طرح سے معاشرہ کو بے پناہ نقصان پہنچاتی ہے اور اس کا انجام اس مادر پدر آزاد جنسی بے راہ روی پر ہوتا ہے جس نے آج دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔لذات کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے سے دیگر نقصانات کے علاوہ ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ خاندانی رشتے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں۔اس کے برعکس اسلام ماں باپ، بھائی، بہن اور اولاد کے مقدس رشتوں کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح اسلام ان دوستانہ تعلقات کو بھی فروغ دیتا ہے جو ہوس پرستی کی بجائے پاکیزہ محبت پر مبنی ہوں۔99 80