احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 48 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 48

جماعت احمدیہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے نتیجہ میںآل انڈیا کشمیر کمیٹی ختم ہو چکی تھی اور اس تحریک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا، تو 1936ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن قائم فرمائی تھی تا کہ جائزہ لیا جا سکے کہ گلانسی کمیشن کشمیر نے اہل کشمیر کے حقوق کے لئے جو سفارشات پیش کی تھیں ان پر عمل ہو رہا ہے کہ نہیں اور جن سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ان پر عملدرآمد کروانے کے لئے کوششیں کی جائیں۔اس ایسوی ایشن کا پہلا اجلاس لاہور میں ہوا۔برٹش لائبریری میں موجود ریکارڈ ظاہر کرتا ہے اس وقت کی حکومت ان کا وشوں کے متعلق مہا راجہ کشمیر کی حکومت کو مسلسل مطلع کر رہی تھی۔اس سلسلہ میں دہلی کے Foreign and Political Department اور کشمیر کی حکومت کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی۔اس سلسلہ میں کشمیر کے وزیر اعظم Elliot James Colvin کشمیر میں ریذیڈنٹ Lt Col L E Lang اور دہلی FV Wylie Foreign and Political Department درمیان خط و کتابت بھی ہوتی رہی اور یہ مشورے بھی ہوتے رہے کہ اس سلسلہ کو ایک بار پھر بڑھنے سے کس طرح روکا جائے۔اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا کہ امام جماعت احمد یہ اس مسئلہ کو اُٹھانے کی کوشش کریں گے کہ ریاست کشمیر کے وزیر کشمیریوں میں ہی سے لئے جائیں۔16 جون 1936ء کو کشمیر کے انگریز وزیر اعظم Colvin نے ریذیڈنٹ L E Lang کو ایک خط لکھا اور اس میں امام جماعت احمدیہ کی اہل کشمیر کے لئے کاوشوں کے بارے میں لکھا "Government feel confident that the Punjab government will nip this agitation in the bud۔I trust that you will take such action as you may consider necessary to attain this object۔" 48