احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 277 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 277

کسی آیت قرآنی، حدیث یا صحابہ کے اجماع کا کوئی حوالہ پیش نہیں کیا۔اسی طرح صفحہ 26 پر لکھا ہے کہ محمد حسین خلیل صاحب نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ غیر مسلموں کا مسلمانوں سے امتیاز بہت سی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے۔ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تا کہ شعائر اللہ کے معاملے میں شریعت کی ہدایات پر عمل کیا جا سکے۔اسی طرح صفحہ 85 پر ایک گذشتہ فیصلہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔جب 1989ء میں اُس وقت کی پنجاب حکومت نے جماعت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی کی تقریبات پر پابندی لگا دی تو اُسے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔یہ مقدمہ (PLD 1992 Lahore 1 Mirza Khurshid Ahmad and another Vs Government of Punjab Etc) کے نام سے معروف ہے۔اس مقدمہ پر آنے والے فیصلہ کے ایک حصے کا حوالہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی فیصلہ میں بھی دیا گیا ہے جس میں لکھا ہے کہ یوں تو آئین میں اپنے مذہب کے اظہار اور اس پر عمل کرنے کی سب کو اجازت ہے لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور شعائر اسلام استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح صفحہ 88 اور 89 پر ایک اور عدالتی فیصلہ کا حوالہ دیا گیا ہے جو کہ پاکستان سپریم کورٹ کی جانب سے سنایا جانے والا ایک اکثریتی فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے جنرل ضیاء صاحب کے جماعت احمدیہ کے خلاف نافذ کئے جانے والے بدنام زمانہ آرڈیننس 20 کو چیلنج کرنے پر سنایا گیا تھا۔اس فیصلہ میں لکھا گیا تھا کہ احمدیوں کی طرف سے شعائر اسلام کے استعمال پر اصرار کیا جاتا ہے اور اس وجہ سے عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ قادیانی جان بوجھ کر ایسا دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے کرتے ہیں۔اس فیصلہ میں جسٹس عبد القدیر چوہدری صاحب 277