احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 264 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 264

انہیں اپنی پرانی عمارات کی مرمت کروانے کی اجازت بھی نہ ملے گی۔اس پابندی کے بعد وہ اپنی عبادت گاہیں قائم نہیں رکھ سکتے۔ہر عمارت مرورِ زمانہ سے شکست وریخت کا شکار بنتی ہے۔اگر اس اصول کے مطابق چلا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وطن عزیز میں غیر مسلم اپنی عبادت گاہیں قائم نہ رکھ سکیں گے اور اگر ایسا ہے تو پھر آئین کی تمہید میں ” عبادت کی آزادی کے کیا معنی؟ اور اس دستاویز کے مطابق یہ شرط بھی لگائی گئی ہے کہ عیسائی چر چوں کے باہر صلیب آویزاں نہیں کی جائے گی۔عدالتی فیصلہ میں ” شروط عمریہ کے متن میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان دن کو یا رات کو عیسائیوں کے گرجے میں آرام کرنا چاہے گا تو اسے نہیں روکا جائے گا۔پھر اس دستاویز میں لکھا ہے کہ شام کے عیسائیوں پر یہ شرط تھی کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن نہیں پڑھا سکتے۔اس کا یہ مطلب نکلے گا کہ کوئی بڑی عمر کا غیر مسلم بھی قرآن نہیں پڑھ سکتا۔یہ شرط تو از خود تبلیغ اسلام کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔اگر کسی غیر مسلم کو قرآن کریم پڑھایا ہی نہیں جاسکتا تو پھر اس کی تعلیم کو قبول کرنے کی دعوت کس طرح دی جاسکتی ہے؟ اس کے بعد یہ دلچسپ شرط لکھی ہوئی ہے کہ اگر غیر مسلم کہیں پر بیٹھے ہوں اور وہاں پر مسلمان بیٹھنا چاہیں تو غیر مسلم وہاں سے اُٹھ جائیں گے۔یہاں پر یہ شرط بالکل نہیں کہ اس پابندی کا اطلاق کس جگہ پر ہوگا اور کس جگہ پر نہیں ہوگا۔اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ خواہ غیر مسلم اپنی ذاتی نشست گاہ، اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہوں اور مسلمان ارادہ کریں کہ وہاں اپنی مجلس لگا ئیں تو غیر مسلموں کا فرض ہوگا کہ وہاں سے اُٹھ جائیں ورنہ ان کو غدار شمار کیا جائے گا۔لباس کے متعلق اس دستاویز میں یہ ہدایت پائی جاتی ہے کہ عیسائی مسلمانوں جیسا لباس ، ٹوپی اور پگڑی نہیں پہنیں گے بلکہ مسلمانوں جیسے جوتے بھی نہیں پہن سکیں گے۔اب 264