احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 243
ہے کہ اس موقع پر وفاقی وزیر خورشید حسن میر صاحب نے اس ترمیم کی مخالفت میں تقریر کی اور کہا کہ اس وقت کئی ممالک میں مثلاً افریقہ میں اسلام پھیل رہا ہے۔اگر ہم ایسا قانون بنائیں گے تو غیر مسلم ممالک بھی ایسے قوانین بنا دیں گے جس سے اسلام کی تبلیغ پر غلط اثر پڑے گا۔لیکن اسلام کی تبلیغ کی کسی کو فکر نہیں تھی تو ان علماء صاحبان کو نہیں تھی۔اس بحث میں وہ اس قسم کی فکروں سے مکمل طور پر بے نیاز نظر آتے ہیں۔(The National Assembly of Pakistan Constitution Making Debates Vol II No۔20 P 1096-1110) مرتد کی تعریف اور اس میں پوشیدہ فتنہ ایک گذشتہ قسط میں یہ ذکر گذر چکا ہے کہ مولوی صاحبان کے نزدیک مرتد کی سز اقتل ہے اور وہ اسے قانون کا حصہ بنانے کے لئے کوششیں بھی کرتے رہے ہیں۔جب 1973ء کے آئین پر بحث ہو رہی تھی تو مذہبی جماعتوں کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو تبلیغ کا حق تو دے دو۔سکھ یا ہندو عیسائی ہوسکتا ہے اور عیسائی سکھ یا ہند و ہوسکتا ہے لیکن آئین کی رو سے مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اس پس منظر میں ایک اور بات کا ذکر بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ اس مرحلہ پر ان علماء نے مرتد کی تعریف کو بھی آئین کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔چنانچہ مولوی غلام غوث صاحب نے مرتد کی اس تعریف کو آئین کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی کہ و کسی ایسے شخص کو مرتد کہا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کرنے کے بعد قرآن پاک کی کسی آیت رسول کی کسی مسلسل حدیث یا ان کی کسی مقبول عام توضیح کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔“ (The National Assembly of Pakistan Constitution Making Debates Vol II No۔20 P 1268) 243