احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 238
اس میں تو بالکل بنیادی قسم کے انسانی حقوق بیان کئے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے ، قرآن نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بہت زیادہ حقوق انسانیت کو عطا فرمائے ہیں اور مولوی عبد الحکیم صاحب یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ اگر بنیادی انسانی حقوق میں سے کوئی خلاف اسلام یا خلاف سنت ثابت ہو جائے تو وہ منسوخ ہو سکتا ہے۔یہ صاحب تو خود اسلام پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اسلام نے انسانیت کو بنیادی حقوق بھی عطا نہیں کئے۔اسی رو میں بہک کر مولوی عبد الحق صاحب (اکوڑہ خٹک) نے بھی ایک ترمیم پیش کر دی۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے آئین کا یہ آرٹیکل ( نمبر 8) ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ کوئی رسم یا رواج یا قانون جوان بنیادی انسانی حقوق سے ٹکرائے گا وہ تناقض کی حد تک کالعدم ہوگا۔ان صاحب نے یہ ترمیم پیش کر دی سوائے اس کے کہ ایسا قانون ، رسم و رواج جو قرآن وسنت کے مطابق ہو۔“ دوسرے لفظوں میں یہ مولوی صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ قرآن وسنت بنیادی انسانی حقوق کو سلب کر سکتے ہیں۔مولوی عبد الحق صاحب یہ تو غور فرماتے کہ اس باب میں درج کون ساحق خلاف اسلام یا خلاف سنت ہے۔خدا کا شکر ہے کہ یہ عجیب الخلقت ترامیم بھاری اکثریت سے نا منظور ہوگئیں اور ان کے حق میں صرف 16 ووٹ آئے۔66 (The National Assembly of Pakistan, Constitution Making bates, Vo۔II no 19, P1096) شریعت کورٹ کے فیصلہ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ پر پابندی کا جواز پیش کرنے کے لئے یہ تبصرہ کیا گیا کہ دوسری آئینی ترمیم کے بعد بھی احمدی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے تبلیغ کرتے رہے جبکہ اُن کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے تبلیغ کرتے۔(فیصلہ شریعت کورٹ ص 150) 238