احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 7 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 7

"Every possible step to disintegrate, disunite, confuse and to create a defeatist mentality in the local population, more particularly, among the Muslim community was taken"۔ترجمہ: ہر ممکن قدم اٹھایا گیا تا کہ مقامی آبادی میں انتشار پیدا کیا جائے ، ان کے اتحاد میں رخنے ڈالے جائیں ، انہیں الجھنوں میں مبتلا کیا جائے اور ان میں شکست خوردہ ذہنیت پیدا کی جائے۔یادش بخیر ! اس حوالے سے کچھ امور کو یاد کرانا ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک انگریز ہندوستان پر حکمران تھا، جماعت احمدیہ کے مخالف مولوی صاحبان یہ اعلان کر رہے تھے کہ انگریز حکمران تو مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کے لئے قابل قدر کوششیں کر رہے ہیں۔چنانچہ 1881ء میں دہلی کے مسلمان علماء نے تجویز کیا کہ اہل حدیث اور حنفی دوسرے فقہ کے پیروکار ایک دوسرے پر طعن و تشنیع نہ کریں اور ایک دوسرے کی مساجد میں ایک دوسرے کی امامت میں نماز پڑھ لیں اور رفع یدین اور آمین بالجہر پر فساد نہ کریں اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالہ میں فخر سے تحریر فرمایا کہ ہم مسٹر ینگ کمشنر دہلی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے خود کوشش کر کے یہ معاہدہ کرایا ہے اور مسلمانوں کے دینی معاملہ میں ان کی مدد کی ہے۔اور اس بارے میں مختلف مسالک کے بڑے بڑے علماء میں تحریری معاہدہ ہوا اور ان علماء نے اس معاہدہ پر دستخط کئے اور اپنی مہریں ثبت کیں۔ان میں سے ایک دستخط جماعت احمدیہ کے ایک اور اشد مخالف مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب کے بھی ہیں۔اور یہ سب کچھ مسٹر ینگ کمشنز دہلی کے رو برو کیا گیا اور انہوں نے بھی اس معاہدہ پر اپنے دستخط کئے۔(اشاعۃ السہ نمبر 3 جلد 5 صفحہ 69 تا 73) 7