احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 178 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 178

دے کر اب یہ گروہ خود بغاوت برپا کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔اور سب کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم سچ بول رہے ہیں مولوی منظور احمد چنیوٹی صاحب نے کہا کہ ہم نے اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی کے سلسلہ میں حکومت کو چھ آدمیوں کے نام دیئے ہیں اور ان میں مرزا طاہر احمد کا نام بھی شامل ہے۔اگر ان چھ آدمیوں سے اسلم قریشی برآمد نہ ہوا تو ہم سر بازار گولی کھانے کو تیار ہیں۔(نوائے وقت لاہور 18 فروری 1984ء) اس پس منظر میں جماعت احمدیہ کے مخالفین نے 27 اپریل کو اپنا جلسہ کرنے کا اعلان کیا اور 26 اپریل کو جنرل ضیاء صاحب نے جماعت احمدیہ کے خلاف آرڈیننس نافذ کر دیا۔(اس آرڈینس کی تفصیلات بعد کی قسط میں بیان کی جائیں گی۔اس قسط میں مرکزی نقطہ اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی ہے )۔آرڈیننس کے بعد مخالفین کی خوش فہمیوں کا عالم یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے اشد مخالف رسالہ چٹان نے لکھا: قادیانی فتنہ 26 اپریل 1984 ء کا سورج طلوع ہوتے ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔اس روز جب سورج غروب ہوا تو برطانیہ کے خود کاشتہ پودے کی زندگی کا چراغ بھی ہمیشہ کے لئے گل ہو گیا۔خس کم جہاں پاک۔“ چٹان 30 اپریل 1984 صفحہ 6 اس کے اوپر جنرل ضیاء صاحب کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی دی گئی تھی۔آخر یہ کارنامہ تو اُن کا تھا۔اس دعوے کی حقیقت کے بارے میں اب پڑھنے والے خود ہی رائے قائم کر سکتے ہیں۔مباہلہ کا چیلنج بہر حال آرڈینس کے بعد اسلم قریشی صاحب کے اغواء اور شہادت کا معاملہ تو پس منظر 178