احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 174
اگر الزامات غلط نکلیں تو ہمیں پھانسی دے دینا مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس قسم کے اعلانات شائع ہو رہے تھے۔چنانچہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کی طرف سے اعلان شائع ہوا، جس کا عنوان تھا ، کھلی چٹھی بنام جنرل محمد ضیاء الحق صاحب صدر پاکستان، جناب گورنر صاحب پنجاب“ اس میں لکھا گیا تھا کہ امام جماعت احمدیہ کے حکم سے مولانا اسلم قریشی صاحب کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ہے اور تمام قرار دادوں کے باوجود اب تک مرزائیوں کو گرفتار کر کے مسلمانوں کی تسلی نہیں کی گئی اور عوام میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ حکومت مرزائی نوازی سے کام لے رہی ہے جبکہ مرزائی پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کے لئے کوشاں ہیں اور اس کھلی چٹھی میں مطالبہ کیا گیا کہ معراجکے اور سیالکوٹ کے نمایاں احمدیوں اور امام جماعت احمد یہ کو گرفتار کر کے شاہی قلعہ لاہور میں ہمارے سامنے تفتیش کی جائے۔اگر اس طریق پر تفتیش وو کرنے سے 48 گھنٹے کے اندراندر مجرموں کا سراغ نہ ملا تو حکومت کو اختیار ہوگا: چوک علامہ اقبال میں کھڑا کر کے گولی مار دیں یا پھانسی پر لٹکا دیں۔ہمیں یا ہمارے ورثاء کو کوئی گلہ یا اعتراض نہ ہو گا اور مولانا اسلم قریشی کے مدعیان اور ہمدرد مسلمان بھی خاموش ہو کر آرام سے گھروں کو بیٹھ جائیں گے اور فرض کی ادائیگی کے بعد حکومت کو بھی سکون حاصل ہو جائے گا۔“ ختم نبوت کراچی 12 تا 18 نومبر 1983 صفحہ 10 ) اب الزامات اغوا تک محدود نہیں تھے بلکہ برملا یہ اعلانات کئے جا رہے تھے کہ ہم اسلم قریشی کے خون کا بدلہ لیں گے اور اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو اس کے ماضی کےسارے دھبے اس معاملے کے سامنے ماند پڑ جائیں گے اور یہاں تک نوبت آ چکی 174