احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page xiii
پس منظر جب کوئی قوم دانستہ طور پر اپنی منزل کھو کر تنگ نظری کی بندگلی میں جا نکلے تو پھر اللہ کا کوئی خاص فضل ہی اسے اس بندگلی سے نجات دلا سکتا ہے ورنہ ان بھول بھلیوں سے نکلنے کی ایک بعد دوسری کوشش ناکام ہوتی جاتی ہے۔یہی حال اس دور میں پاکستان کا ہے۔پہلے 1974ء میں آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور ظاہر ہے کہ احمدیوں نے اس عجیب الخلقت فیصلہ کو کبھی بھی قبول نہیں کیا۔پھر جنرل ضیاء صاحب کے دور میں انتخابی قوانین میں ترمیم کر کے جدا گانہ انتخابات کو متعارف کرایا گیا یعنی ہر مذہب سے وابستہ افراد اپنے نمائندے علیحدہ منتخب کریں اور اس کا سب سے بڑا نشانہ احمدی تھے اور احمدیوں نے اس انتخابی عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا کیونکہ اُن کے نزدیک اسلام کے علاوہ احمدیوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔پھر 2002ء میں جدا گانہ انتخابات کو ترک کر کے ایک بار پھر Joint Electorate کو نافذ کیا گیا۔لیکن جب مولویوں نے فساد برپا کیا تو ایک اور بوانجی یہ دکھائی گئی کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ باقی فرقوں کے مسلمانوں ، ہندوؤں ، عیسائیوں اور سکھوں وغیرہ کی ایک مشتر کہ انتخابی فہرست بنے گی اور احمدیوں کی علیحدہ ووٹرلسٹ بنے گی۔انتخابی قوانین میں یہ قوانین 7B اور 7C کی شقوں میں شامل کئے گئے تھے۔ظاہر ہے کہ احمدیوں نے ان قوانین کے تحت بھی انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا۔جب 2017ء میں نئے انتخابی قوانین بنائے گئے اور پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے تو ان قوانین میں 7A اور 7B کی شقیں شامل