احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 66
ترجمہ: اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ وزیر خارجہ کے خلاف الزامات کو تسلیم کر لیا گیا تھا البتہ عمومی شہرت یہ تھی کہ وہ احمدیوں کی مدد کرتے ہیں اور لوگوں کو احمدی بنانے کی کوشش کرتے ہیں میں نے معین شکایت پیش کرنے کے لئے کہا لیکن ایسی کوئی شکایت پیش نہیں کی گئی تھی۔اور اس سے قبل یہ ذکر چل رہا ہے کہ علماء کا وفد وزیر اعظم سے مل کر اپنا موقف پیش کر چکا تھا۔ذرا تصور کریں کہ چھ سال چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ رہے اور اُس وقت بھی اور اب تک یہ الزام لگایا جا تا رہا۔خود وزیر اعظم نے دلچسپی لے کر مخالفین کو کہا کہ اس بات کی کوئی ایک معین مثال پیش کریں کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنے عہدے سے جماعت احمدیہ کو ناجائز فائدہ پہنچایا ہو اور وہ ایک مثال بھی پیش نہ کر سکے۔مودودی صاحب کا عدالت میں بیان پڑھ جائیں ، انہوں نے صرف یہ الزام لگایا اور اس کی کوئی ایک مثال بھی پیش نہ کر سکے۔دوسرے مخالفین کے بیانات پڑھ جائیں وہ بھی اس کا نہ کوئی ثبوت پیش کر سکے اور نہ کوئی مثال ان کے پاس تھی۔چھ سال میں انہیں اس کی ایک بھی مثال نہ مل سکی۔اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس عدالتی فیصلہ میں صرف مودودی صاحب کا الزام ہی درج ہے کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔اس سے زیادہ کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ یہ الزام جھوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا اور دوسری طرف تحقیقاتی عدالت میں ثابت ہوا کہ انہی سالوں میں پنجاب حکومت سرکاری فنڈز سے ان علماء کی جیبیں گرم کر رہی تھی جو جماعت احمدیہ کے خلاف شورش چلا رہے تھے اور اُن اخبارات کو جو جماعت احمدیہ کے خلاف مضامین شائع کر رہے تھے تعلیم بالغاں کے فنڈ ز سے رشوتیں دی گئی تھیں۔اتنی نہ بڑھا پاکئی داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ 66