احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 251 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 251

پسندوں کے ایک طبقہ نے پہلے ملا عمر صاحب کو امیر المومنین تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور پھر بغدادی صاحب کو خلیفہ اور امیر المومنین بھی مان لیا۔بعد میں سٹپٹا کر غور کرتے رہے کہ ایک وقت میں دو امیر المومنین کیسے ہو سکتے ہیں۔ایک مدرسہ سے یہ تو جیہہ پیش کی گئی کہ ملا عمر ہمارے امیر المومنین اور ابوبکر البغدادی ہمارے خلیفہ ہیں اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ امیر المومنین ہو سکتے ہیں۔اس حالت کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ جنرل ضیاء صاحب کے آرڈینس میں یہ پابندی تو لگا دی گئی تھی کہ احمدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین کے علاوہ کسی اور کو امیر المومنین نہیں کہہ سکتے لیکن جب پاکستان میں کئی طبقوں نے ملا عمر اور ابوبکری بغدادی کو علی الاعلان امیر المومنین تسلیم کیا تو قانون خاموش رہا بلکہ اب تک خاموش ہے۔(Analysis: Battle for Ameer-ul-Monineen, by Hassan Abdullah, Daily Dawn 6th December 2014) (https//:www۔thenews۔com۔pk/archive/print/641023-a-setback-for-fazlullah -mullah-omar-and-zawahiri accessed on 12th October 2018) (https//:dailypakistan۔com۔pk/09-Dec-2014/1171237accessed on 12th October 2018) خليفة المومنین اور خلیفہ المسلمین کی اصطلاح اب ہم خلیفتہ المسلمین اور خلیفتہ المومنین کی اصطلاحات کا جائزہ لیتے ہیں۔اس آرڈیننس میں ان اصطلاحات کا شامل کر نا بذات خود ظاہر کرتا ہے کہ اس آرڈیننس کی عبارت تیار کرنے والے ان اصطلاحات کے بارے میں گہرا علم تو در کنار سطحی علم بھی نہیں رکھتے تھے۔خلیفہ کا لفظی مطلب ہے جانشین ، قائم مقام اور سب سے بڑا بادشاہ۔(المنجد) 251