احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 175 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 175

تھی کہ صدر جنرل ضیاء صاحب تقریر کر رہے تھے کہ ایک مولوی صاحب نے کھڑے ہوکر کہا کہ آپ کے متعلق یہ تاثر ہے کہ آپ قادیانیوں کے لئے سخت الفاظ استعمال نہیں کرتے اور صدر صاحب نے کمال تابعداری سے کہا کہ میرے والد نے تو ساری عمر قادیانیت کی عداوت میں گزار دی اور میں قادیانیوں کو کافروں سے بد تر سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ جماعت احمدیہ کے مخالفین نے ایک نئی مجلس عمل قائم کی اور جماعت اسلامی ، جمعیت العلماء پاکستان ، جمیعت العلماء اسلام اور شیعہ عالم بھی اس میں شامل ہو گئے۔(ختم نبوت کراچی 26 نومبر یا2 دسمبر 1983ء صفحہ 14 ، ختم نبوت کراچی 12 تا18 نومبر 1983 صفحہ 5 ، ختم نبوت 3 تا 9 دسمبر 1983 صفحہ 18 ,19 ) 1983ء کے بالکل آخر میں یہ خبریں اُڑائی جا رہی تھیں کہ اب قادیانیوں نے اسلم قریشی صاحب کے بیٹے صہیب کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی ہے اور اب قادیانی مسلک سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کی فہرستیں تیار کی جارہی ہیں اور یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ان کو عام شائع کیا جائے تاکہ ان پر ہر کوئی نظر رکھ سکے اور ساتھ یہ بات بھی شائع کی جارہی تھی کہ جو قادیانیوں کو کا فرنہیں سمجھے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا اور اس کے ساتھ جماعت احمدیہ کے مخالفین نے یہ راگ الاپنا شروع کیا کہ اب اسلم قریشی تک بس نہیں قادیا نیوں نے مزید علماء کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ختم نبوت کراچی ، 3 تا 9 دسمبر 1983 ، صفحہ 4، 5، 18، 19 ختم نبوت 9 تا 15 دسمبر 4 ، 5 ، 22 ، 23 - ختم نبوت 16 تا 22 دسمبر 1983 ، صفحہ 5) اسلامی نظریاتی کونسل کے مطالبات 1984ء کا آغاز اس عمل میں تیزی کا پیغام ہی لایا۔آٹھویں قومی سیرت کانفرنس کے موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کے صدر جسٹس تنزیل الرحمن نے صدر جنرل ضیاء صاحب کی 175