احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 142
سلسلہ میں فروری 1978ء میں مصر میں صدر کارٹر اور صدر انور السادات کی ملاقات ہونے سے قبل ہی سعودی عرب میں امریکہ کے صدر اور سعودی فرمانروا میں ملاقات ہو چکی تھی اور سعودی لیڈروں کو اعتماد میں لیا جا چکا تھا۔اس کے بعد برززنسکی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُس وقت سعودی حکومت سے ایک Secret Pledge حاصل کر لیا تھا کہ اسرائیل اور مصر کے معاہدے کے بعد سعودی عرب مصر کے خلاف ایسی پابندیاں نہیں لگائے گا جو اسے نقصان پہنچاسکیں اور سابق امریکی صدر کا رٹرا اپنی کتاب Keeping Faith میں لکھتے ہیں کہ اس معاہدے کے فوراً بعد انہیں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ خالد نے ان مذاکرات میں اپنی حمایت کا یقین دلا دیا تھا۔اور اسی قسم کا پیغام سعودی ولی عہد شہزادہ فہد کی طرف سے بھی ملا تھا اور بعد میں CIA نے خفیہ دستاویزات declassify کیں تو ان سے بھی یہ چیز ثابت ہو گئی۔اگر چہ 1978ء کے معاً بعد یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب بھی دوسرے عرب ممالک کی طرح اسرائیل سے ہونے والے معاہدے کے شدید خلاف ہے۔( Power and Principle, by Zbigniew Brzezinski, published by Weidenfeld and Nicolson 1983p 239۔240۔286) ( Keeping Faith, by Jimmy Carter, published by Bantam Books November 1982۔P408) ظاہر ہے کہ اگر اُس وقت یہ راز فاش ہو جاتا کہ سعودی عرب کی حکومت ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے تو انہیں شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا اور جس طرح صدر سادات پر امریکہ اور اسرائیل کے سامنے جھکنے کے الزامات لگ رہے تھے ، سعودی عرب کی حکومت کو بھی انہیں الزامات کا سامنا پڑتا اور اُس وقت اکثر عرب دنیا اسے غداری قرار دے رہی تھی۔شاید اسی لئے حفظ ما تقدم کے طور پر رابطہ عالم اسلامی نے یہی مناسب سمجھا ہو کہ شور مچا کر 142