احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 75 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 75

Azam's action because taking over by the military was, in my opinion the only opinion the situation could be saved۔ترجمہ: البتہ میں جنرل محمد اعظم کے ایکشن کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک اس وقت ملٹری کا نظم و نسق سنبھالنا وہ واحد راستہ تھا جس سے صورت حال بچائی جاسکتی تھی۔کیا 1971ء میں احمدیوں کی وجہ سے ملک ٹوٹا تھا ؟ الزامات اور حقائق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے جماعت احمدیہ کے بارے میں جو تفصیلی فیصلہ تحریر کیا ہے، اس میں جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک طویل تجزیہ پیش کیا ہے اور اس سے کچھ نتائج نکالنے کی کوشش کی ہے۔ہم گزشتہ اقساط میں اس فیصلہ میں 1953 ءتک کے حالات کا جو تجزیہ پیش کیا تھا ، اس پر تبصرہ کر چکے ہیں۔اس کے بعد ہم 1960ء کی دہائی کی طرف آتے ہیں۔جس طرح 1953ء کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کو نشانہ بنایا ہے، اسی طرح 1960ء کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب (ایم ایم احمد ) کی ذات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اور اسی طرز پر بنایا ہے جس طرح حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کو بنایا گیا تھا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جب پاکستان میں احمدی اعلیٰ عہدوں پر پہنچ جاتے تھے تو وہ پاکستان کے مفادات کے لئے کام کرنے کی بجائے بڑی طاقتوں کے آلہ کار بنے رہتے تھے اور ان کے مفادات کے لئے کام کرتے اور اس کے عوض بڑی طاقتیں مدد کرتی تھیں اور اس مدد پر پاکستان کا انحصار بڑھ جاتا تھا۔گو یا مالی اعداد وشمار کی 75