احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 74
ایکشن پلان پر عمل کر رہے تھے اور جماعت اسلامی نے عدالت میں استدعا کی تھی کہ وہ تو اس کا حصہ نہیں تھے بلکہ خلاف تھے لیکن مجلس احرار نے ان کے اس بیان کو غلط قرار دیا اور کہا کہ وہ ہر طرح اس کا حصہ تھے۔اب جماعت اسلامی کی طرف سے عدالت میں دیئے جانے والے بیان کا جو اردو تر جمہ قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی سیاسی اور معاشرتی پہلو کے نام سے شائع کیا جاتا ہے وہ جماعت اسلامی نے تحریف کر کے شائع کیا ہے اور اس شورش کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے۔اس میں یہ حصے نکال دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے شورش کے اصل حصہ کی مخالفت کی تھی۔لیکن اصل انگریزی بیان محفوظ ہے۔اور یہ حقیقت اس لئے بھی نہیں چھپ سکتی کہ تحقیقاتی عدالت کی اردور پورٹ کے صفحہ 263 سے 272 میں یہ سب امور بڑی تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔کیا وزیر اعظم کو مارشل لاء کے فیصلہ پر افسوس تھا؟ اس فیصلہ کے صفحہ 48 پر لکھا ہے: The whole nation condemned it۔The action was also resented by the Prime Minister۔یعنی پوری قوم نے اس ایکشن کی مذمت کی اور وز یر اعظم اس پر ناراض تھے۔یہ بات خلاف واقعہ ہے کیونکہ جب یہ سب واقعات ہو چکے تھے اور عدالت ان فسادات پر تحقیقات کر رہی تھی تو خواجہ ناظم الدین صاحب سے 1953 ء میں لاہور میں ہونے والے جنرل اعظم صاحب کے آرمی کے ایکشن کی بابت سوال کیا گیا۔انہوں نے جواب دیا I, however, accept responsibility for General Muhammad 74