احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 72
سول اینڈ ملٹری گزٹ کی رگِ ظرافت پھڑ کی تو ان کی دو تصویریں Before اور After کے عنوان کے ساتھ شائع کر دیں۔ایک میں موصوف ایک ضخیم داڑھی کے ساتھ تھے اور دوسری میں داڑھی غائب تھی۔آفاق 10 مارچ 1953 ، صفحہ 1 The Civil & Military gazette, March 24, 1953) مودودی صاحب اور جماعت اسلامی کا انحراف کہ ہم تحریک میں شامل ہی نہیں تھے اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے فیصلہ میں مودودی صاحب کو 1953ء کے ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے لیکن ایک اہم بات کا ذکر انہوں نے نہیں کیا۔اور وہ یہ کہ جب فسادات ختم ہو چکے تھے اور تحقیقاتی عدالت میں سب جماعتوں نے اپنے اپنے بیانات جمع کرائے تو جماعت اسلامی کی طرف سے بھی بیان جمع کرایا گیا۔اس بیان میں مودودی صاحب کی جماعت نے جماعت احمدیہ ، صوبائی اور مرکزی حکومت کے علاوہ ان فسادات کی ذمہ داری جماعت احمدیہ کے مخالفین پر بھی عائد کی تھی اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی اس تحریک کو چلانے والوں کے طریقہ کار سے متفق نہیں تھی اور جماعت احمدیہ کے مخالفین نے 17 جنوری 1953 کے بعد ، ڈائرکٹ ایکشن کی دھمکی سے لے کر اس پر عملدرآمد تک جو بھی اقدامات اُٹھائے وہ utravires یعنی غیر قانونی تھے۔خود ان کی مجلس عمل کے قوانین کے مطابق انہیں اس کا اختیار نہیں تھا۔جماعت اسلامی تو ان اقدامات میں شامل نہیں تھی بلکہ مودودی صاحب نے اپنے کارکنان کو روک دیا تھا کہ وہ ان اقدامات میں شامل نہ ہوں اور ان میں شامل ہونے کی پاداش میں بعض کارکنان کو 72