احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 71 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 71

کی رپورٹ کے مطابق یہ صورت حال تھی کہ لاہور شہر پر حکومت کی عملداری ختم ہو رہی تھی۔اس رپورٹ میں لکھا ہے’ حادثہ پر حادثہ رونما ہوتا گیا۔پولیس اور احمدیوں پر حملے کئے گئے اور حکومت یا احمدیوں کے اموال و جائیداد کو لوٹنے کا ہنگامہ جاری رہا۔“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے فسادات پنجاب 1953 صفحہ 159 تا 161 ) یہ حقیقت ظاہر ہے کہ ریاست کے اندر ریاست جماعت احمدیہ کے مخالفین نے قائم کی تھی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔دولتانہ صاحب نے وزیر اعظم کو فون کیا کہ فسادیوں کے مطالبات مان لیں ورنہ لاہور شہر تو ختم ہے۔پاکستان کی مرکزی کابینہ نے حالات قابو کرنے کا فیصلہ کیا اور جنرل اعظم نے لاہور شہر میں مارشل لاء لگا دیا۔اس سے قبل تو شورش برپا کرنے والے کہہ رہے تھے کہ وہ خون کے آخری قطرے تک جد و جہد کریں گے لیکن جب قانون نافذ کرنے والوں نے فساد کرنے والوں سے رو رعایت بند کر دی تو لاہور میں جلد ہی ان کے حوصلے پست ہو گئے۔دوسرے انہیں یہ بھی نظر آرہا تھا کہ اب عوام ان کی حمایت نہیں کر رہے۔ایجی ٹیشن کرنے والوں نے مساجد سے نکل کر گرفتاریاں دینی شروع کر دیں اور 8 مارچ تک تو لاہور میں امن وسکون بحال ہو گیا۔عبدالستار نیازی صاحب کی بزدلی مسجد وزیر خان اس فساد کو بر پا کرنے والوں کا سب سے بڑا مرکز تھا اور ادھر عبدالستار نیازی صاحب اشتعال انگیز کارروائیوں میں پیش پیش تھے۔جب انہیں یہ خطرہ دکھائی دیا کہ شاید انہیں گرفتار کر لیا جائے تو انہوں نے ایک استرے کی مدد حاصل کی۔کسی پر حملہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی داڑھی سے نجات حاصل کرنے کے لئے۔اس طرح وہ بھیس بدل کر کے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے مگر کچھ روز کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا اور 71