احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 52
طور پر اس قسم کی مبہم اور غیر واضح باتیں بیان کر کے کسی کو متہم کیا جا سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان کب برطانوی سامراج کے ملازم رہے تھے؟ اور اس کا کیا مطلب ہے؟ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر رہے تھے۔اگر وہ کسی سامراج کے ملازم تھے تو مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی تنظیم نے انہیں اپنا صدر کیوں منتخب کیا تھا ؟ اور اگر مراد یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وائسرائے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر رہے تھے تو واضح رہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب اور قائد اعظم کی کابینہ کے اراکین سردار عبد الرب نشتر صاحب، چندریگر اور غضنفر علی خان بھی وائسرائے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر رہے تھے۔یہ الزام کہ آپ نے باؤنڈری کمیشن میں پاکستان کا مقدمہ پیش نہیں کیا تھا۔خدا جانے یہ لکھتے ہوئے لکھنے والے کے ذہن میں کیا تھا؟ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے پاکستان کا مقدمه صحیح طور پر پیش نہیں کیا تھا تو اس کے چند ماہ بعد قائد اعظم نے آپ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیوں مقرر کر دیا؟ اب تو اس باؤنڈری کمیشن کی ساری کارروائی شائع ہو چکی ہے۔ہر کوئی اسے پڑھ سکتا ہے۔ہم ممنون ہوں گے اگر اس سے کوئی ثبوت پیش کیا جائے کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کمیشن کے روبرو پاکستان کا کیس نہیں پیش کیا یا صحیح طور پر پیش نہیں کیا۔مسئلہ کشمیر اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی خدمات اسی طرح اگر یہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ نے سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلہ 52