احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 51 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 51

کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی۔اور ہندوستان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر 66 ثابت ہوگی۔۔الفضل 22 اکتوبر 1945ء) اگر جماعت احمدیہ کے نزدیک پاکستان کا بننا یا قائم رہنا ممکن نہیں تھا تو پھر جماعت احمد یہ ان انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کیوں کر رہی تھی ؟ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر اعتراضات چونکہ 1953 ء کے فسادات میں مخالفین نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کو خاص طور پر نشانہ بنایا تھا۔اس لئے اس عدالتی فیصلہ میں جہاں پر 1953ء کے فسادات کا ذکر ہے وہاں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر خاص طور پر اعتراضات کئے گئے ہیں۔تقسیم ہند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں: "People did not like Sir Zafaruulah at all for his past role as a servant of the British Imperialists and his perspective on foreign policy۔The people believed that he did not plead Pakistan's case before the boundary commission and the Kashmir issue at UN۔" (Page 45,46) ترجمہ: لوگ سر ظفر اللہ کو خارجہ پالیسی کے بارے میں ان کے نظریات کی وجہ سے بالکل پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ برطانوی سامراج کے ملازم رہ چکے تھے۔لوگوں کا خیال تھا کہ انہوں نے پاکستان کا مقدمہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے نہیں لڑا تھا اور نہ ہی کشمیر کا قضیہ اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا۔ہر سنی سنائی بات نہ تو خبر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا سچا ہونا ضروری ہوتا ہے۔اور نہ قانونی 51