احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 49 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 49

ترجمہ : حکومت اس بارے میں پر اعتماد ہے کہ پنجاب کی حکومت اس شورش کو آغاز میں ہی ختم کر دے گی۔میں اس بات پر بھروسہ کر سکتا ہوں کہ آپ اس بارے میں ہرضروری قدم اُٹھائیں گے۔یہ ریکارڈ برٹش لائبریری میں موجود ہے اور اس کا فائل نمبر 10R/R1/11 2837:1936-1937 ہے۔ہر کوئی اس کا جائزہ لے کر حقائق جان سکتا ہے۔اس ریکارڈ سے ان مفروضوں کی مکمل تردید ہو جاتی ہے جن کا ہم نے ذکر کیا تھا۔ان حقائق کی روشنی میں از سر نو تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے کہ اُس دور میں جماعت احمدیہ کے خلاف مہم کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما تھے؟ اور ان کے مقاصد کیا تھے؟ جسٹس شوکت عزیز صاحب کا فیصلہ اور 1953ء کے فسادات اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے جماعت احمدیہ کے خلاف جو فیصلہ تحریر کیا ہے ، اس کے بیشتر حصہ میں تاریخی واقعات درج کئے گئے ہیں اور جماعت احمدیہ پر ہر طرح الزامات لگانے کے لئے غلط اور خلاف واقعہ امور درج کئے گئے ہیں یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ہم گزشتہ اقساط میں 1936 ء تک کے درج کردہ حالات کا تجزیہ پیش کر چکے ہیں۔1936ء سے 1947 ء تک کے واقعات کا ذکر غائب کیوں؟ لیکن ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ کہ اس کے بعد اس فیصلہ میں 1936ء سے 1948 ء تک کے تاریخی واقعات کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔شاید پڑھنے والوں کو یہ بات تعجب میں ڈالے کہ یہ دور تو برصغیر کے مسلمانوں کے حوالے سے اہم ترین دور تھا کیونکہ 49