احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 32 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 32

جلسے منعقد ہوئے۔لاہور کے جلسہ سے علامہ اقبال نے خطاب کیا۔اس سے قبل صورت حال یہ تھی کہ خود مسلم لیگ نے بھی کبھی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی تھی۔جب یہ مہم شروع ہوئی تو پہلی مرتبہ دسمبر 1931ء میں مسلم لیگ نے اپنے سالانہ جلسہ میں کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت میں قرار داد منظور کی۔1931ء کی گول میز کانفرنس کے دوران لندن میں علامہ اقبال ، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور دوسرے مسلمان مندوبین نے وزیر ہند سے ملاقات کر کے انہیں کشمیر کے مسلمانوں کی حالت زار سے مطلع کیا۔کشمیر میں زخمی اور قید ہونے والے کشمیری مسلمانوں کی مالی اور قانونی مدد جاری کی گئی۔کشمیر کے مسلمانوں میں بیداری کی لہر دوڑنی شروع ہوئی اور ان میں اپنے حقوق کے لئے جد و جہد کرنے کا جوش پیدا ہوا۔ڈوگرہ مہاراجہ کی حکومت اس مہم سے ہل کر رہ گئی اور انہوں نے مسلمانوں سے مذاکرات کا عمل اور اس کے ساتھ ان کو اپنا ہمنوا بنانے کا عمل بھی شروع ا کیا۔اس صورت حال پر تحقیقات کے لئے گلاسی کمیشن قائم کیا گیا۔رپورٹ تو جیسی تھی شائع کی گئی لیکن مہاراجہ کی حکومت نے اصلاحات کی بجائے لیت ولعل سے کام لینا شروع کیا۔اس پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بہت سے مسلمان لیڈروں کے ساتھ وفد بنا کر وائسرائے سے ملاقات کر کے اس پر عمل درآمد کا سوال اُٹھایا۔سب یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس مرحلہ تک کامیابی اور مستقل مزاجی سے کام جاری تھا۔(Iqbal and the politics of Punjab1926-1993 8 ,by Khurram Mahmood, published by, National Book Foundation 2010, p 90-96) (Political Islam in Colonial Punjab Majlis-i-Ahrar 1929-1949, by Samina Awan, by Oxford University Press 2010, p 38-55) جب ہم یہاں تک کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں، اور ہم نے ایسی کتب کے حوالے 32