احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 31 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 31

حقیقت کھلی اور انہوں نے جماعت احمدیہ کی مخالفت شروع کی۔اس مرحلہ پر یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جب اس کمیٹی نے کام شروع کیا تو کیا ہوا تھا کہ علامہ اقبال نے جماعت احمد یہ کی مخالفت شروع کر دی؟ ہم اُن کتابوں کے حوالے سے اس سوال کا تجزیہ پیش کریں گے جن کے لکھنے والوں کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں۔کشمیر کمیٹی کی جد و جہد کا آغاز اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کشمیریوں کی حمایت کے لئے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے مہم چلائی جائے۔جن کشمیریوں کو مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہے ان کی مالی مدد کی جائے۔جن کشمیریوں کو قید و بند اور مہاراجہ کی حکومت کی طرف سے مقدمات کا سامنا تھا ان کی قانونی اور وکلاء کے ذریعہ مدد کا فیصلہ کیا گیا۔اور کیونکہ دنیا کو خبر ہی نہیں تھی کہ کشمیر کے مسلمانوں کو کن مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ باہر کی دنیا کو ان حقائق کے بارے میں مطلع کیا جائے اور مہاراجہ کشمیر پر دباؤ بڑھایا جائے۔ثمینہ اعوان اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا اور اس پر عملدرآمد شروع ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ 14 اگست 1931 ء کو پورے ہندوستان میں کشمیر ڈے منایا جائے۔یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد مسلمانوں نے پورے ہندستان میں اپنے حقوق کے لئے کوئی ایسی مہم کامیابی سے نہیں چلائی تھی۔اور یہ سوال اُٹھتا تھا کہ کیا یہ دن کامیابی سے منایا جا سکے گا کہ نہیں؟ جب یہ دن آیا تو ہندوستان بھر میں یہ دن کامیابی سے منایا گیا اور چھوٹے بڑے شہروں میں کامیابی سے جلسے منعقد ہوئے۔لاہور ، پٹنہ، کلکتہ، بمبئی، دیو بند، کراچی ، علی گڑھ، سیالکوٹ، دہلی، کراچی میرٹھ ، دکن، بہار اور اڑیسہ میں 31