احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 17
اور دیگر کرتوت ایسے تھے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت کسی بھی زمانہ میں اس کے خلاف فوج کشی سمیت سخت ترین کارروائی کرتی کیونکہ اس کا جرم ریاست سے سنگین غداری کا بھی تھا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسود عنسی کے مقابل پر کوئی لشکر یا فوج روانہ نہیں کی تھی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے معین طور پر اس کی سزائے موت کا کوئی حکم صادر ہوا تھا۔اس وقت ایک لشکر حضرت اُسامہ کی سرکردگی میں شام کی طرف روانہ ہو رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کو شام بھجوانے کے فیصلہ میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی اور اس کے بجائے آپ نے حضرت دبر کو اور چند اور صحابہ کو خط دے کر روانہ فرمایا جس میں مسلمانوں کو ارشاد فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے دین پر قائم رہیں اور جنگ اور حیلے سے اسود عنسی کے خلاف کارروائی کریں۔اس علاقے کے مسلمان مظلومیت کی حالت میں تھے اور انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا کہ انہیں خبر ملی کہ اسود عنسی اور اس کے دو اہم عہدیداروں میں اختلاف ہو گیا ہے۔اس پر انہوں نے اسود عنسی کے ان ناراض سرداروں سے رابطہ کیا اور پھر اسود عنسی کے ان ساتھیوں نے جو دل میں اس سے برگشتہ ہو چکے تھے لیکن اس کے اقتدار کے خوف سے بظاہر اس کی اطاعت کا دم بھرنے پر مجبور تھے ، اسود عنسی کی بیوی سے مل کر اس کے محل میں اس کو قتل کر دیا۔جس شخص نے اسود عنسی کا قتل کیا اس کا نام' فیروز، تھا اور وہ خود اسود عنسی کے سرداروں میں سے تھا لیکن اس کے سلوک کی وجہ سے اس سے ناراض تھا۔تاریخ ابن خلدون جلد دوئم ، اردو تر جمه از حکیم احمد حسین اله آبادی، الفیصل ناشران 435 -437) ( تاریخ طبری جلد دوم، اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم، ناشر دار الاشاعت کراچی ،2003 صفحہ 462_473) حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسیلمہ کذاب اپنے ساتھیوں سمیت مدینہ آیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف نہ اُس وقت 17