احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 16
خود اعلان بغاوت کر کے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تھا۔ظاہر ہے کہ آج سے ہزاروں سال قبل کا دور ہو یا موجودہ دور ہو، جب بھی کوئی کسی حکومت میں بغاوت کر کے اس کے شہریوں پر حملہ کرے گا ، اس ملک کی حکومت اور اس کے شہریوں کے خلاف فوج کشی کرے گا تو حکومت کا فرض ہے کہ اسے سخت ترین سزا دے۔اس کا مذہب یا دعویٰ نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسود عنسی نے یمن کے علاقہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔اُس وقت یہ علاقہ مسلمانوں کی حکومت کا ایک حصہ تھا اور اس کے مختلف علاقوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مختلف عمال مقرر تھے۔اسود عنسی کے دعوئی کے بعد نہ مسلمانوں نے پہلے اُس پر حملہ کیا تھا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا کوئی حکم جاری فرمایا تھا۔اس سے قبل کہ کوئی ایسا قدم اُٹھایا جاتا اُس نے خود مسلمانوں پر حملہ کر کے خون خرابہ شروع کر دیا تھا اور ان علاقوں کو جو کہ مسلمانوں کی حکومت میں شامل تھے اپنی حکومت میں شامل کرنا شروع کر دیا تھا۔اس نے صنعاء پر حملہ کیا اور صنعاء کے حاکم حضرت شہر بن باذان اس کے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے اور اسی طرح بہت وسیع علاقہ اس کے قبضہ میں آ گیا۔اس نے ظلم کرتے ہوئے ان کی بیوی آزاد سے زبردستی شادی کر لی۔اس نے خطوط لکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ عمال کو یمن سے نکلنے کا اور سرکاری خزانہ اس کے حوالے کر دینے کا مطالبہ کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تقریباً تمام عمال کو اپنے مقامات سے نکلنا پڑا۔اس صورت حال میں اہل یمن کی ایک بہت بڑی تعداد مرتد ہو کر اسود عنسی پر ایمان لے آئی اور تاریخ طبری کے مطابق کئی مسلمانوں نے جو اپنے دین پر قائم تھے اس سے درخواست کر کے امان حاصل کی۔دعویٰ نبوت کے علاوہ بھی اسود عنسی کی بغاوت 16