احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 305 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 305

نہیں تھا جب 1978ء میں لاہور ہائیکورٹ کے بینچ نے فیصلہ سنایا لیکن اس پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ ان دونوں فیصلوں میں اور خاص طور پر 1984 ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں میں بنیا دقرآن کریم اور احادیث نبویہ تھیں اور دونوں فیصلوں میں قرآن کریم اور احادیث کے حوالوں کے علاوہ مذہبی کتب کے بہت سے حوالے پیش کئے گئے تھے اور انہیں ان تفصیلی فیصلوں میں تحریر کردہ دلائل کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ ان چھ سالوں میں قرآن کریم اور احادیث کی تعلیمات تبدیل نہیں ہو سکتی تھیں۔قرآن وحدیث کی روشنی میں جسٹس آفتاب 1978ء میں جن نتائج پر پہنچے تھے، 1984ء میں بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں انہیں انہی نتائج پر پہنچنا چاہیے تھا۔اگر یہ نتائج تبدیل ہو گئے تھے تو ان کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس کا فیصلہ پڑھنے والے خود کریں گے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ 1984ء میں جماعت احمدیہ کے مخالفین نے یہ موقف پیش کیا کہ احمدیوں کو پاکستان کے قانون میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور قرآن وحدیث سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام غیر مسلموں کو شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اس بارے میں 1984ء میں وفاقی شرعی عدالت نے قرآنِ کریم کی آیات اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے دے کر اپنے فیصلہ میں یہ نتیجہ نکالا : It is thus obviously concluded from it that Islamic Sharia does not allow a non-Muslim to adopt Shia'ar of Islam, because Shia'ar means the distinguishing features of a commu- nity with which it is known۔If an Islamic State inspite of its being in power allows a non-Muslim to adopt the Shia'ar of Islam which 305