احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 293
انہوں نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا کہ مسجد کا لفظ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور اس کا مطلب صرف عبادت گاہ سمجھنا درست نہیں ہے۔انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ قرآن کریم میں لفظ ” مسجد مختلف مذاہب کے معابد کے طور پر نہیں بلکہ اُن عبادتگاہوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھیں اور مختلف انبیاء کے مراکز کے طور پر قائم کی گئی تھیں۔(سورۃ کہف کی جس آیت کا حوالہ درج کیا گیا ہے، اس سے یہ خیال غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اصحاب کہف نبی نہیں تھے۔اسی طرح جن احادیث کا حوالہ درج کیا گیا ہے، ان سے بھی اس نظریہ کی تردید ہوتی ہے۔) اس پر عدالت کے چیف جسٹس جسٹس آفتاب نے کہا یعنی ایسے الفاظ آئے ہیں کہ سابق انبیاء کی عبادتگاہوں کے لئے لفظ مسجد استعمال کیا گیا ہے۔کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان تھے۔اس پر قاضی مجیب صاحب نے یہ نکتہ اٹھایا کہ سورۃ الحج کی آیت 41 میں اس کی صراحت موجود ہے۔اور اس کی تائید میں جلال الدین محلی اور جلال الدین سیوطی کی تفسیر جلالین کا حوالہ پیش کیا۔اس ضمن میں سب سے پہلے اس آیت کریمہ کا متن درج کرنا ضروری ہے۔الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ عَلي إِلا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ، وَلَوْلاً دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج: 40) ترجمه: (یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع اُن میں سے بعض بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معاہد بھی 293