احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 289
جنرل ضیاء صاحب کے آرڈینس میں اس بات پر پابندی لگائی گئی تھی کہ احمدی اپنی مساجد کے لئے لفظ مسجد استعمال کر سکیں۔جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا جاتا تھا کہ مسجد شعائر اسلامی میں سے ایک ہے اور اس کا استعمال مسلمانوں سے مخصوص ہے۔چونکہ ہم بزعم خود احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے چکے ہیں، اس لئے اُن کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی عبادتگاہ کے لئے لفظ مسجد“ استعمال کریں کیونکہ یہ معاملہ زیر بحث نہیں تھا اس لئے وفاقی شرعی عدالت میں مکرم مجیب الرحمن صاحب نے اس بحث کو نہیں چھیڑا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ہے اور اس موضوع پر درج ذیل بنیادی سوالات اٹھائے: 1۔کیا کوئی ایسا شخص جو قرآن کریم کے نظام حیات کو اپنا لے۔اس سے قرآنی اصطلاحات چھینی جاسکتی ہیں؟ 2۔جب کوئی لفظ لغوی اور اصطلاحی معنوں میں ساتھ ساتھ استعمال ہو رہا ہو تو کیا اس کے استعمال پر پابندی لگائی جاسکتی ہے؟ 3۔کیا مسجد کا لفظ خالصتاً اصطلاحی طور پر مسلم معابد کے لئے مخصوص ہے یا اس میں کوئی استثناء بھی ہے؟ اور اگر کوئی مستثنیات قرآن وحدیث میں ملتی ہیں تو اس کا ماحصل کیا ہے؟ 4۔لغوی طور پر مسجد کا لفظ کن معابد کے لئے استعمال ہوا ہے؟ اس موقع پر عدالت میں بہت جامع اور علمی بحث پیش کی گئی۔اس کی تفصیل تو کتاب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے لیکن سب سے اہم یہ نکتہ تھا کہ خود قرآن کریم میں مسجد“ کا لفظ اسلام کے علاوہ دوسرے ادیان کی عبادتگاہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔چنانچہ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ 289