احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 281
رَّبِّهِم وَرِضْوَانًا (المائدة:3) ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شعائر اللہ کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ ہی حرمت والے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ قربانی کی علامت کے طور پر پیٹے پہنائے ہوئے جانوروں کی اور نہ ہی ان لوگوں کی جو اپنے رب کی طرف سے فضل اور رضوان کی تمنا رکھتے ہوئے حرمت والے گھر کا قصد کر چکے ہوں۔3 - ذَالِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج : 33) ترجمہ: یہ (اہم بات ہے ) اور جو کوئی شعائر اللہ کو عظمت دے گا تو یقیناً یہ بات دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔4 - وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ (الحج: 37) ترجمہ: اور قربانی کے اونٹ جنہیں ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کر دیا ہے۔ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔پس ان پر قطار میں کھڑا کر کے اللہ کا نام پڑھو۔یہ ہیں وہ آیات کریمہ جن میں شعائر اللہ کا ذکر ہے۔ان آیات میں صفا اور مروہ، حرمت والے مہینوں اور قربانی کے اونٹوں کو شعائر اللہ میں شامل کیا گیا ہے اور ان سب شعائر اللہ کا تعلق حج بیت اللہ کے مناسک سے ہے اور ان کی عظمت کا ذکر ہے۔ان آیات میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ ان شعائر اللہ کا اسلام سے پہلے کوئی وجود نہیں تھا۔سورۃ المائدۃ میں ایمان لانے والوں کو حکم ہے کہ تم ان کی بے حرمتی نہ کرو۔جیسا کہ ذکر ہے کہ صفا اور مروہ اور قربانی کے جانوروں اور حرمت والے مہینوں کو شعائر اللہ میں قرار دیا گیا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان شعائر کا احترام اسلام کی آمد سے قبل ہی عرب میں موجود تھا۔وہ قربانی کے 281