احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 276
ناحق طور پر بہت سا مصالحہ فراہم کرنے کے مترادف ہوگا جس کو پھر یہ طبقہ اپنی اسلام مخالف مہم میں استعمال کر سکتا ہے۔چنانچہ اس بارے میں حقائق کا جاننا اور ایسے امور کی مدل تردید کرناضروری محسوس ہوتا ہے۔اس عدالتی فیصلہ میں ایک اور پہلو کو بہت نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ احمدی شعائر اللہ یا شعائر اسلام استعمال کرتے ہیں اور اس طرح ان شعائر کی نہ صرف تو ہین ہوتی ہے بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے اور آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔فیصلہ کے اس پہلو کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ بات واضح کر دینا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں اور اسی لئے شعائر اللہ اور شعائر اسلامی کا ادب و احترام کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔اس عدالتی فیصلہ میں پہلے اس بارہ میں ماہرین کی آراء درج کی گئی ہیں اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے اپنے تبصرے موجود ہیں۔سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس معاملے میں عدالتی ماہرین کی جانب سے پیش کی جانے والی آراء کیا ہیں؟ عدالتی ماہرین کی آراء اور سابقہ عدالتی فیصلے اس فیصلہ کے صفحہ 19 پر حافظ حسین احمد مدنی صاحب کی یہ رائے درج ہے کہ شعائر اللہ جو اسلام کی علامات ہیں ان کا احترام اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔قرآن کریم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، اجماع صحابہ اور شروط عمر یہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کو شعائر اللہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شعائر اللہ کو غیر مسلموں کی دست برد سے بچائے اور احمدیوں کو تو بالکل شعائر اللہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہاں یہ بات قابل ور ہے کہ حسین مدنی صاحب نے یہاں 276