احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 269 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 269

اہل نجران اور ان کے قرب و جوار کے لئے ان کی جان، مذہب، ملک و مال، حاضر و غائب، ان کے معاہد و عبادات اللہ کی پناہ اور محمد نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری میں ہیں نہ تو ان کے کسی اسقف ( پادریوں کا سردار ) کو تبدیل کیا جائے گا، نہ کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے اور نہ کسی واقف کو وقفیت سے۔اس قلیل یا کثیر مقدار میں کوئی تغیر و تبدل نہ کیا جائے گا جو ان لوگوں کے قبضے میں ہے۔۔۔۔(طبقات ابن سعد ا ر د و ترجمه از عبدالله العمادی جلد اوّل ناشر دار الاشاعت 2003 ص 404,387 ) اگر کسی اور مذہب کے بانی کی طرف سے صاحب اقتدار ہوتے ہوئے دوسرے مذہب کی عبادت ، عبادت خانوں اور مذہبی شخصیات کو اس قسم کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے تو اس کی معین مثال حوالوں کے ساتھ پیش کرنی چاہیے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقنا (Maqna) کے یہود کو بھی خط تحریر فرمایا۔اس میں انہیں امان دینے کا اور ان کی حفاظت کا وعدہ تھا۔اور یہ عہد تھا کہ ان کے ساتھ کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہوگی۔ان لوگوں پر واجب الادا ئیکس کی تفصیلات بھی درج تھیں لیکن اُن پابندیوں کا کوئی ذکر نہیں تھا جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔اسی طرح ” عریض اور بنی غادیا“ کے یہود کے نام فرمان عہد بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔جس طرح مسلمانوں پر زکوۃ تھی غیر مسلموں کو جز یہ دینا ہوتا تھا۔اس کے علاوہ ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔(طبقات ابن سعد اردو ترجمہ از عبد الله العمادی جلد اوّل ناشر دار الاشاعت 2003 ص 395 تا 397 ) ی مختصر سا تجزیہ اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ عہد نبوی میں عیسائیوں یا یہودیوں پر اس قسم کی کوئی پابندیاں نہیں لگائی جاتی تھیں بلکہ ان کو امان دی جاتی تھی اور یہ عہد کیا جاتا تھا کہ ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ان پر مذہب تبدیل کرنے کے لئے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے 269