احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 265 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 265

یہاں یہ سوال طبعی طور پر پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمانوں جیسے لباس سے کیا مراد ہے؟ اگر ہم آج کے پاکستان کا جائزہ لیں تو پاکستان میں مسلمان شلوار قمیص پہنتے ہیں۔غیر مسلم یا عیسائی پھر شلوار قمیص نہیں پہن سکیں گے اور پاکستان میں ہی مسلمانوں کی بڑی تعدا د مغربی طرز کی پتلون شرٹ بھی پہنتی ہے یا صاحب حیثیت مسلمان مغربی طرز کا سوٹ بھی پہنتے ہیں۔اس قانون کا یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ غیر مسلم یہ بھی نہیں پہن سکیں گے۔تو یہ سوال تو بہر حال اُٹھے گا کہ آخر وہ کیا پہنیں گے کہ اس تنگ نظر طبقہ کی دل آزاری نہ ہو؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلہ میں یا ان ماہرین کی آراء میں جو کہ اس فیصلہ کی زینت بنی ہیں اس اہم موضوع پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ کیا غیر مسلم اپنا نیا لباس خود ڈیزائن کریں گے کہ یہ کام بھی پاکستان کی کوئی حکومت یا عدالت یا پارلیمنٹ سرانجام دے گی؟ یا از راہ شفقت پاکستان کے غیر مسلموں کو اجازت ہوگی کہ کم از کم اپنا لباس وہ خود ڈیزائن کرلیں اور اگر یہ کہا جائے کہ کوٹ پتلون تو غیر مسلموں کا لباس ہے تو اس بارے میں نشاندہی کرنی ضروری ہے کہ پھر تو مسلمانوں پر یہ پابندی لگ جائے گی کہ وہ کوٹ پتلون نہ پہنیں کیونکہ اس عدالتی فیصلہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا حلیہ مختلف ہونا چاہیے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے یہ فیصلہ سنانے والے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کی تصویر جب بھی دیکھی ہے مغربی لباس میں ہی دیکھی ہے۔اس معاہدے میں مزید یہ شرط درج ہے کہ عیسائی اپنا روایتی لباس پہنیں گے۔اگر اس دور میں ان شرائط کا اطلاق کیا جائے تو پہلے یہ طے کرنا پڑے گا کہ آخر پاکستان کے مسیحی احباب کا روایتی لباس ہے کیا ؟ اور یہ احتیاط کہ مسلم اور غیر مسلم ایک جیسے نظر نہ آئیں صرف لباس تک محدود نہیں ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلہ میں ماہرین کی آراء درج کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ مسیحی 265