احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 253
اُٹھالے گا۔پھر ایذاء رساں بادشاہت قائم ہوگی۔پھر اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر اللہ اسے اُٹھا لے گا۔اس کے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ 66 قائم ہوگی۔پھر آپ خاموش ہو گئے “۔( مشکوۃ المصابیح باب الانذار والتحذير ) اس حدیث مبارکہ سے ظاہر ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں خلافت قائم ہوگی اور ایک بار پھر تحریک خلافت کی مثال دینی ضروری ہے۔یہ ساری تحریک اس بنیادی نکتہ پر چلی تھی کہ ترکی کے سلطان مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں اور خلیفۃ المسلمین ہیں اور جب تحریک خلافت کی طرف سے ان کے نام خط لکھے جاتے تو خلیفۃ رسول اللہ اور امیر المومنین کے الفاظ سے شروع ہوتے۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے بعد کسی کے لئے خلیفہ المسلمین یا خلیفتہ المومنین کی اصطلاحات جائز نہیں تھیں تو یا ترکی کے سلطان کے لئے یہ القابات کیوں استعمال کئے گئے؟ اور دوسراستم یہ کہ پہلے تو ترکی کے سلطان عبد الوحید کو خلیفہ اور امیر المومنین قرار دیا گیا اور پھر جب وہ تخت سے محروم ہو گئے تو یہی لوگ باقاعدہ انہیں مردود اور مقہور کے نام سے یاد کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہندوستان کے مسلمان ان سے شدید نفرت رکھتے ہیں اور اس کی ذمہ داری انہی کے افعال قبیحہ پر عائد ہوتی ہے اور انہوں نے اپنے ذاتی مفادات پر اپنے مذہبی اور قومی مفادات کو قربان کر دیا ہے اور فوراً نئے خلیفہ کے نام نیازمندیوں کے پیغامات بھجوانے شروع کر دیئے۔تحریک خلافت مصنفہ ڈاکٹر میم کمال او کے، ترجمہ ڈاکٹر ثاراحمد اسرار، سنگ میل پبلیکیشنز 1991ء صفحہ 180 ،195 ،200) 253