احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 252
عموماً جماعت احمدیہ میں امام جماعت احمدیہ کے لئے خلیفتہ المسیح کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔جس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے خلیفہ رسول اللہ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔اس آرڈینس کے مطابق کوئی احمدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے علاوہ کسی کے لئے خلیفہ المسلمین یا خلیفہ المومنین کی اصطلاح نہیں استعمال کر سکتا۔بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی ممانعت ہے کہ خلفائے راشدین کے علاوہ کسی کے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال کیا جائے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں تمام اموی بادشاہوں کے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ، تمام عباسی بادشاہوں کے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ، اور تمام عثمانی بادشاہوں کے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا۔باوجود اس کے کہ خلافت راشدہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ختم ہو گئی تھی ، ابن خلدون اور امام غزالی دونوں کا یہ نظر یہ تھا کہ عالم اسلام میں خلیفہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔امام غزالی نے تو لکھا ہے کہ امت مسلمہ میں خدا نے خلافت کا سلسلہ قیامت تک کے لئے کھول دیا ہے۔ان حقائق کی موجودگی میں یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور آپ کے خلفائے راشدین کے علاوہ کسی کے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال نہیں ہوسکتا ایک بے معنی بات ہے۔( مقدمه تاریخ ابن خلدون اردو ترجمہ عبدالرحمن دہلوی، ناشر الفیصل اگست 1993 صفحه 179 ) مجربات امام غزالی اردو تر جمه از سید حافظ یاسین، ناشر الفیصل جون 2007 ، صفحہ 357) اور اگر یہ کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین کے بعد کسی کے بارے میں خلیفہ کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا تو یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا انکار کرنا ہے کیونکہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اُٹھا لے گا پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔پھر اللہ جب چاہے گا اسے 252