احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 245
ہوں۔یہ محض ان کی خواہشات ہیں۔تو کہا اپنی کوئی مضبوط دلیل لا ؤاگر تم سچے ہو۔یہ مدنی دور کی آیت ہے۔اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہودی اور عیسائی اپنے مذہب کے برحق ہونے کا اعلان کر رہے تھے اور قرآن کریم نے انہیں اس سے روکا نہیں بلکہ انہیں دعوت دی ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو مضبوط دلیل پیش کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دے رہا ہے۔تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ یہودو نصاری نے یہ جملے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کہے جب نجران کا وفد مدینہ میں آیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ (الانبياء : 25) ترجمہ: کیا انہوں نے اس کے سوا کوئی معبود بنارکھے ہیں؟ تو کہہ دے اپنی قطعی دلیل لاؤ۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ جب مشرکوں سے بھی مذہبی گفتگو ہو اور وہ اپنے مشرکانہ دعاوی پیش کریں تو ان سے ان کے دعوے کی دلیل طلب کرو۔اگر مشرکین کو اپنے مذہب کے حق میں دلائل پیش کرنے کی یا تبلیغ کی اجازت ہی نہیں تھی تو ان سے دلیل طلب کرنے کا کیا مطلب؟ پھر سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔245