احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 244 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 244

مرتد کی اس تعریف سے یہ ظاہر ہے کہ اس کے بعد ان علماء نے یہ مسئلہ اُٹھانا تھا کہ یہ فیصلہ تو ہم علماء کریں گے کہ کسی آیت یا مسلسل حدیث کی مقبول عام توضیح کیا ہے؟ یا یہ کہ یہ فیصلہ بھی ہم کریں گے کہ کون سی حدیث کو مسلسل حدیث قرار دیا جاسکتا ہے۔اور اس کو بنیاد بنا کر جس کو ان کا جی چاہے مرتد ، غیر مسلم اور واجب القتل قرار دینا تھا۔اور اس طرح ان کے لئے اپنی من مانی کرنے کے راستے کھل جانے تھے۔یہ ترامیم بھی بھاری اکثریت سے نامنظور قرار دے دی گئیں۔اور ان کی حمایت میں صرف دو ووٹ آئے۔اگر مرتد کی یہ تعریف منظور کرانے کی کوشش کی گئی تھی تو لازمی بات ہے کہ اگلا مرحلہ یہ ہونا تھا کہ جو کسی ایک آیت یا کسی ایک حدیث کے مطلب کے بارے میں بھی مولوی صاحبان سے اختلاف کرے گا وہ غیر مسلم اور گردن زدنی قرار دے دیا جائے گا۔قرآن کریم کی راہنمائی اب اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ کیا ! ملک میں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو، دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے عقائد کی تبلیغ کی اجازت ہوتی ہے کہ نہیں ؟ بار بار اس بات کا اعلان کیا جاتا ہے کہ ملک کے آئین میں لکھا ہے کہ پاکستان میں قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا تو اس مسئلہ میں بھی یہ جائزہ لینا پڑے گا کہ اس بارے میں قرآن کریم سے کیا را ہنمائی ملتی ہے؟ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرۃ میں فرماتا ہے: وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصْرَى تِلْكَ أَمَانِتُهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ترجمه: (البقرة : 112 ) وروہ کہتے ہیں ہرگز جنت میں کوئی داخل نہیں ہو گا سوائے ان کے جو یہودی یا عیسائی 244