احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 242 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 242

بالکل اجازت نہیں ہونی چاہیے۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ء ص 238) ان صاحبان کو اگر دنیا میں اشاعت اسلام اور تبلیغ اسلام کی فکر ہوتی یا کم از کم اس کی صلاحیت ہوتی تو وہ کبھی بھی تبلیغ کے حق کی مخالفت نہ کرتے بلکہ اس کی بھر پور حمایت کرتے۔اگر ان میں خود اعتمادی ہوتی تو انہیں کبھی بھی اس بات سے پریشانی نہ ہوتی کہ آئین میں سب کو تبلیغ کی آزادی حاصل ہے مگر افسوس کہ جب 1973ء میں پاکستان کے تیسرے آئین پر بحث ہو رہی تھی تو اس موقع پر بھی مذہبی جماعتوں کے قائدین نے آئین میں تبلیغ کے حق کی مخالفت کی۔یہ حق آئین کے آرٹیکل 20 میں دیا گیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: قانون ، امن عامہ اور اخلاق کے تابع [الف] ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا“ جب یہ شق پیش ہوئی تو مذہبی جماعتوں کے ممبران نے اس میں ترمیم کرانے کی کوشش کی۔مولوی عبد الحکیم صاحب نے اس شق میں یہ ترمیم پیش کی: بشرطیکہ اسلام کی تبلیغ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔اور یہ کہ مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔“ اور مولوی غلام غوث صاحب نے ان الفاظ کے اضافہ کی تجویز پیش کی : دو لیکن کسی مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔“ اس کا مطلب یہ کہ غیر مسلموں کو تبلیغ کرنے کی اجازت تو ہے لیکن کوئی مسلمان اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا۔اس شرط کے ساتھ تو تبلیغ کا حق بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ بات قابل ذکر 242