احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 237
اس ناول میں ایسے دور کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جب دنیا میں سیاسی اشرافیہ نے اس طرح کی قانون سازی کر کے افراد کو اُن کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔وہ گھر بھی جاتے ہیں تو کیمرہ ان کی نگرانی کر رہا ہوتا ہے، جب دل چاہتا ہے تاریخ اور ڈکشنری بدل دیتے ہیں۔اور شادی بھی کرتے ہیں تو اس لئے کہ ان کی پارٹی کو مزید بچوں کی ضرورت ہے۔اگر کوئی گھر میں ڈائری بھی لکھتا ہے تو چھپ کر جیسے کوئی بڑا جرم کر رہا ہو۔بنیادی حقوق کے باب پر مولوی صاحبان کی ناراضگی یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب پاکستان کی قومی اسمبلی میں آئین کے آرٹیکل 8 پر یعنی اُس آرٹیکل پر جس میں بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا کہ ان کو سلب یا کم کرنے کے بارے میں کوئی قانون نہیں بن سکتا اور اگر بنایا گیا تو وہ از خود کالعدم ہوگا ، بحث شروع ہوئی تو مولوی صاحبان نے اس شق پر اظہار ناراضگی کیا تھا اور اسے تبدیل کروانے کی کوشش کی تھی اور ظلم یہ ہے کہ اسلام کا نام لے کر یہ کوشش کی گئی تھی۔حالانکہ انہیں اسلام کی حکمتوں کی اطلاع ہوتی اور اسلام سے محبت ہوتی تو یہ کہتے کہ سب سے زیادہ بنیادی حقوق کو تحفظ اسلام نے عطا کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے نام پر ان حقوق کو مکمل تحفظ دیا جائے اور ایسا تحفظ دیا جائے کہ کسی اور ملک میں اس کی مثال نہ ملتی ہو لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے بالکل برعکس رویہ دکھایا۔چنانچہ جب یہ آرٹیکل قومی اسمبلی میں بحث کے لئے پیش ہوا تو جماعت احمدیہ کے اشد مخالف مولوی عبد الحکیم صاحب نے اس میں یہ ترمیم پیش کردی که بنیادی حقوق میں کمی کرنے یا اسے سلب کرنے کا کوئی قانون منظور نہیں سوائے اس کے کہ اس باب میں عطا کردہ کسی حق کا خلاف قرآن اور سنت ہونا ثابت ہو جائے۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس باب کو یعنی پاکستان کے آئین کے باب نمبر 1 کو پڑھ جائیں۔237