احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 230
د میں کہتا ہوں خدا کے بند و اسلام کے ساتھ مذاق نہ کرو“ (The National Assembly of Pakistan, Constitution making debates Feb 281973, Vol 2No۔10, p 264) اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مولوی صاحب کو پورے آئین میں کیا غیر اسلامی بات نظر آئی تھی ؟ تو یہ حقیقت جان کر سب کو حیرت ہوگی کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 1۔11 پر اعتراض تھا کیونکہ اس میں غلام اور لونڈیاں رکھنے کی ممانعت کی گئی تھی۔یہ مولوی صاحب نعوذ باللہ پاکستان کے آئین کو کس طرح اسلامی بنانا چاہتے تھے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔مولوی نعمت اللہ صاحب کہتے ہیں: ”جناب صدر اس آئین کے حصہ دوئم میں لکھا ہے کہ غلامی انتہائی درجے تک جائز نہیں ہے اور انسانوں کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے اور غلامی یہاں پر نہیں کی جائے گی اور اس کی ترویج نہیں دی جائے گی۔۔۔جناب والا ! سوچ لیجیے یہ ہال جو مسلمانوں کا ہے اور سب کا قرآن پاک پر ایمان ہے، اس آئین میں یہ اب پیش کیا گیا ہے کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔یہ با قاعدہ اس میں موجود ہے۔جناب والا قرآن پاک میں یہ بھی موجود ہے۔یہ قرآن کریم کا حکم جو ہے وہ ٹھکرایا جاتا ہے۔ہم انگریزوں کی باتوں پر عمل کرتے ہیں اور قرآن پاک کو چھوڑ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر تمہاری طاقت اتنی ہے کہ چار شادیاں نہیں کر سکتے تو ایک کر لو یا باندی کو استعمال میں لاؤ۔آپ کہتے ہیں کہ غلامی جائز نہیں۔جناب والا جائز ہے۔یہ جناب والا قرآن کی مخالفت ہے اور یہ کس طریقے سے کہتے ہیں قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور کہتے ہیں غلامی کو ہم کبھی جائز نہیں کریں گے، انسانوں کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوگی۔بنیادی حصے میں یہ الفاظ رکھ 230