احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 227
اس آرٹیکل کے خلاف ہو۔اس آرٹیکل کے الفاظ یہ ہیں ” تمام موجودہ قوانین کو قرآنِ پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام کے حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔“ یہاں اس اہم بات کا ذکر ضروری ہے کہ جب 1974ء میں قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی ہو رہی تھی تو یہ مؤقف جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا کہ فیصلہ کا معیار قرآن اور سنت ہونے چاہئیں اور جماعت احمدیہ کے مخالفین نے یہ معیار قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ اصول پیش کیا گیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنے سے قبل که کسی گروہ کو غیر مسلم قرار دینا ہے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ تب ہی یہ فیصلہ ہو سکے گا کہ کون مسلمان ہے؟ جب 1974ء میں جماعت احمدیہ کی طرف سے محضر نامہ پیش کیا گیا تو اس حوالہ سے اس میں مندرجہ ذیل سوالات اُٹھائے گئے: ل : کیا کتاب اللہ اور آنحضرت سائی یا ایتم سے مسلمان کی کوئی تعریف ثابت ہے جس کا اطلاق خود آنحضرت صلی سیستم کے زمانے میں بلا استثناء کیا گیا ہو۔اگر ہے تو وہ تعریف کیا ہے؟ ب کیا اس تعریف کو چھوڑ کر جو کتاب اللہ اور آنحضرت صلی یا تم نے فرمائی ہو اور خود آنحضور این ایام کے زمانہ مبارک میں اس کا اطلاق ثابت ہو۔کسی زمانہ میں کوئی اور تعریف کرنا کسی کے لیے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟“ (محضر نامہ۔ناشر : اسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنز صفحہ 13 ) اور پھر جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ صرف قرآن کریم اور 227