احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 226
دوسری آئینی ترمیم ( جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا ) پر عملدرآمد کر وانے کی ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خود یہ آئینی ترمیم ہی غیر آئینی ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 20 کے خلاف ہے۔دوسری آئینی ترمیم کی طرح جماعت احمدیہ کے خلاف جاری کیا جانے والا جنرل ضیاء صاحب کا آرڈینس بھی غیر آئینی ہے کیونکہ یہ احمدیوں کے ان بنیادی حقوق کو ختم کرتا ہے جن کو ختم کرنے کا اختیار مملکت کے کسی ادارے کو نہیں ہے اور یہ آرڈینس بھی آئین کے آرٹیکل 20 کے خلاف ہے۔اسی طرح یہ مطالبہ بھی غیر آئینی ہے کہ احمدیوں کو کلیدی اسامیوں پر نہ لگاؤ کیونکہ یہ مطالبہ آئین کے آرٹیکل 26 اور 36 کے خلاف ہے۔جب 1974ء میں قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کا وفد اپنا موقف ) پیش کر رہا تھا تو اس وقت اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو بھی آپ کو اس بات سے کوئی نہیں روک رہا کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھیں یا اپنے عقائد کو propagate کریں۔آپ کا جو بھی ایمان ہے آپ اُس کا اعلان کر سکتے ہیں۔کارروائی سپیشل کمیٹی 1974 ء ص 128 ) ہ کتنی بے معنی بات ہے کہ انسان کا عقیدہ یا مذہب تو اور ہے اور کاغذوں پر اس سے کچھ اور لکھوایا جائے۔مخالفین کا قرآن وسنت کے فیصلہ سے احتراز اب ہم آئین کے آرٹیکل 227 کا ذکر کرتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کی یہ رائے درج ہے کہ کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو کہ 226