احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 223 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 223

کیونکہ شق 4 اور شق 5 ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔شق 5 آئین میں ترمیم کرنے کے اختیار پر تمام حدود ختم کر دیتی ہے اور شق 4 عدالتوں کا یہ اختیار سلب کر لیتی ہے کہ وہ آئین میں کسی ترمیم کے بارے میں سماعت کرے۔بھارت کا آئین ریاست کے تین حصوں یعنی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان ایک عمدہ توازن پر قائم کیا گیا ہے۔یہ جوں کا صرف کام نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ قوانین کے جواز کے متعلق سماعت کریں۔اگر عدالتوں کا یہ اختیار ختم کر دیا جائے تو آئین میں بنیادی حقوق صرف ایک سجاوٹ کی چیز بن جائیں گے۔کیونکہ ایسے حقوق جن کے پامال ہونے کی صورت میں چارہ جوئی کا کوئی راستہ نہ ہو پانی پر لکیر ثابت ہوتے ہیں۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن اس اختیار کی بھی کچھ حدود ہیں۔اگر اس حق کو غیر محدود کر دیا جائے اور عدالتوں کا یہ حق ختم کر دیا جائے کہ وہ اس بارے میں کسی مقدمہ کی سماعت کریں تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔اس طرح ایک متوازن آئین ایک غیر متوازن آئین میں تبدیل ہو جائے گا۔آرٹیکل 368 کی شق 4 شہریوں کو اس حق سے کلیتاً محروم کر دیتی ہے کہ وہ آرٹیکل 38 میں زیادتیوں کے ازالہ کے لئے جو ضمانت دی گئی ہے اس سے مستفیض ہوسکیں۔ایک طرف یہ آئین کو تباہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور دوسری طرف یہ پابندی لگادی گئی ہے کہ کوئی عدالت اس کے جواز کے بارے میں سماعت بھی نہیں کر سکتی۔یہ ترمیم کے اختیار سے تجاوز کی ایک واضح مثال ہے۔اگر ایک آئینی ترمیم کو اس صورت میں بھی غیر قانونی نہیں قرار دیا جا سکتا کہ وہ آئین کی بنیاد ہی کو منہدم کر رہی ہو تو جو قوانین اس ترمیم کے نتیجہ میں بنیں گے وہ بھی عدالت کے جائزہ کے دائرہ سے بالا ہوں گے اور عدالتیں بے بس ہوں گی کہ ان کو ختم کر سکیں۔اس صورت میں آرٹیکل 13 ایک مردہ دستاویز 223