احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 222
ترجمہ: آرٹیکل 368 میں شق 5 کا اضافہ پارلیمنٹ کے ترمیم کرنے کی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس لئے غیر آئینی ہے۔یہ ان ستونوں کو تباہ کر دیتا ہے جس پر آئین کی تمہید قائم ہے کیونکہ یہ شق پارلیمنٹ کو ایسا آئینی اختیار دے دیتی ہے جس کی کوئی حدود نہیں ہیں۔کوئی آئینی اختیار اس اختیار سے زیادہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں آئین کی دفعات کو منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جمہوریت کو ختم کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔اس کی جگہ اس کے خلاف نظام متعارف کرانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے اور ایسا جمہوریت کوکسی اور نام سے منسوب کئے بغیر یا اس کا مکمل انکار کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو معاشی، اقتصادی اور سیاسی انصاف سے محروم کر دیا جائے۔سوچ، اظہار ، عقیدے ، ایمان اور مذہب کی آزادی کو غیر مؤثر کر دیا جائے۔اس عظیم مقصد کو ترک کر دیا جائے کہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جائے جس میں سب برابر کے شہری ہوں۔یہ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں بلکہ اسے تباہ کرنے کا اختیار ہے۔چونکہ آئین پارلیمنٹ کو ترمیم کرنے کا محدود اختیار دیتا ہے، پارلیمنٹ اس محدود اختیار کا استعمال کر کے، اس میں اضافہ کر کے اس اختیار کو غیر محدود نہیں بنا سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا آئین پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا محدود اختیار دیتا ہے۔ان حدود کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔دوسرے لفظوں میں پارلیمنٹ آرٹیکل 368 کے تحت اپنے اختیارات کو وسیع کر کے آئین کو منسوخ کرنے یا ختم کرنے کا اختیار نہیں حاصل کر سکتی یا اس کے بنیادی خد و خال کو ختم کرنے کا اختیار نہیں حاصل کر سکتی۔محدود اختیارات کا حامل ان اختیارات کو غیر محدود بنانے کا حق نہیں رکھتا۔آرٹیکل 368 میں شق 4 کا اضافہ بھی اتنا ہی غیر آئینی ہے 222