احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 217
کسی ترمیم کا جائزہ لے یا اسے منسوخ کر دے۔اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے یا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا چاہ رہی ہے بلکہ خود آئین نے اسے یہ اختیار دیا ہے۔اور یہ اختیار اس سے اس لئے واپس نہیں لیا جا سکتا کیونکہ یہ اختیار 1973ء کے اصل آئین میں اور آئین کی تمہید میں دیا گیا ہے۔اس مقدمہ میں اس وقت کے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ دلیل پیش کی کہ آئین کے آرٹیکل 239 میں یہ واضح کیا گیا ہے: "No amendment to the Constitution shall be called in question in any court on any ground whatsoever۔۔" یعنی آئین میں کسی ترمیم کوکسی عدالت میں کسی وجہ سے بھی چیلنج نہیں کیا جائے گا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کے جس آرٹیکل میں کسی معاملہ کو سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا گیا ہے وہاں یہ درج کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت نہیں کیا جاسکتا لیکن آرٹیکل 239 میں جہاں کسی بھی عدالت کے الفاظ ہیں وہاں ان حدود کا اطلاق سپریم کورٹ پر نہیں ہوتا۔عدالتی فیصلہ صفحه 853 856) ( Distric Bar Rawalpindi Vs۔Federation of Pakistan, 21st amendment) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ آرٹیکل 239 کا مذکورہ حصہ جس کا حوالہ اٹارنی جنرل صاحب دے رہے تھے ، 1973ء کے اصل آئین میں موجود نہیں تھا بلکہ جنرل ضیاء الحق صاحب نے اسے آئین میں شامل کیا تھا اور اس وقت کی پارلیمنٹ نے مجبوری کی حالت میں اس کی منظوری دی تھی کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو طویل تعطل کے بعد مشکل 217