احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 213 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 213

مرحلہ نہیں آسکتا تھا۔لیکن آخر میں سپیشل کمیٹی کے چیئر مین سمیت دوسرے ممبران نے اس بات کا واضح اقرار کیا تھا کہ وہ اس موضوع پر کارروائی نہیں کر رہے۔جیسا کہ کتاب "سپیشل کمیٹی کی کارروائی پر ریویو میں اس بات کا ذکر کیا جا چکا ہے کہ 15 اگست کے روز سوال و جواب کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے یہ نکتہ اُٹھایا تھا کہ آئین میں مذہبی آزادی کی جو شقیں ہیں، ان سے قبل یہ لکھا ہے: "Subject to law, public order and morality۔" یہ آزادی قانون ، امن عامہ کے تقاضوں اور اخلاقی حدود کے اندر ہوگی اور یہ بحث اُٹھائی تھی کہ اگر قانون سازی کر کے کسی گروہ کی مذہبی آزادی کو سلب کر لیا جائے یا محدود کر دیا جائے تو پھر آئین کی مذکورہ شق اس راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ آئین پاکستان 1 CHAPTER جس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے شروع ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا جو کہ ان بنیادی انسانی حقوق میں کمی کر سکے۔لیکن اس کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب نے یہ خوفناک نظریہ پیش کیا تھا کہ پارلیمنٹ اگر چاہے تو دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔جس کا نتیجہ یہی نکل سکتا تھا کہ ایسا آئین ملک پر مسلط کیا جا سکتا ہے جس میں تمام بنیادی انسانی حقوق سلب کر لئے گئے ہوں یعنی کہ جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے تو کسی کو اپنے مذہب کو profess, practice اور propagate کرنے کی اجازت نہ ہو۔جب آئین میں دوسری ترمیم منظور کی جارہی تھی اور بزعم خود احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جار ہا تھا اس موقع پر وزیر اعظم بھٹو صاحب نے اس ترمیم کی منظوری سے کچھ دیر پہلے اپنی تقریر میں یہ نظریہ پیش کیا: 213