احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 212
فاروق علی خان صاحب نے کہا : ”مولانا محمد ظفر احمد انصاری: شاید مولانا صاحب کو غلط نہی ہوئی ہے۔یہ مسئلہ ہے ہی نہیں کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔یہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کی دستوری اور قانونی حیثیت کو کس طریق پر واضح کریں۔جناب چیئر مین : یہی تو میں نے کوریجہ صاحب کو کہا تھا کہ ان کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا کچھ ہم کر سکتے ہیں ، کیا ہمیں سفارش کرنی چاہیے۔مولا نا عبد الحق : اچھا جی۔تو گزارش میری یہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ جو ہے یہ مسئلہ تو ہمارے آئین میں طے شدہ ہے کہ مسلمان وہ ہوسکتا ہے جس کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور اس کے بعد کوئی بروزی ظلی نبی نہیں آسکتا۔“ ( کارروائی 2917-2916) جہاں تک مولوی عبدالحق صاحب کے نکتے کا تعلق ہے تو اس کو پڑھ کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اور بہت سے اور ممبران اسمبلی کا ذہن آئین کے مندرجات کے بارے میں واضح نہیں تھا۔اس وقت تک پاکستان کے آئین کی جوشکل تھی اس میں اس قسم کی کوئی بات نہیں لکھی تھی جس کا دعویٰ مولوی عبدالحق صاحب کر رہے تھے۔آئین کی جس شق میں غیر مسلم اقلیتوں کے نام لکھے تھے۔اس شق میں احمدیوں کا نام درج نہیں تھا۔یہاں یہ یاد دلاتے چلیں کہ یہ کاروائی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی تھی اور یہ سپیشل کمیٹی قانوناً اس موضوع پر کارروائی کرنے کی پابند تھی جو کہ قومی اسمبلی نے اس کے لئے مقر رکیا تھا۔اور موضوع یہ تھا کہ اسلام میں اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو کہ آنحضرت سلینا ہی تم کو آخری نبی نہیں مانتا۔اس سوال کو حل کئے بغیر کسی قانونی اور دستوری حیثیت کو واضح کرنے کا 212