احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 200 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 200

ملیچھوں اور شودروں سا سلوک کیا جائے۔ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیئے جائیں۔“ اور صدر جمعیت العلماء پاکستان نے بھی کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا کہ اگر ہندوستان میں مسلمانوں سے شودروں جیسا سلوک کیا جائے۔جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد صاحب نے تو یہ بھی کہا کہ اگر کوئی غیر مسلم حکومت اپنے کسی مسلمان شہری کو کسی عہدے کی پیشکش کرے تو اس مسلمان کو چاہیے کہ انکار کر دے۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 صفحہ 245 تا 247) ظاہر ہے کہ اگر اسی سوچ کو پروان چڑھایا جائے تو پھر دنیا بھر میں فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا اور خود مسلمانوں کے حقوق بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔قدیم زمانے میں جب انسانی حقوق کا شعور اتنا مستحکم نہیں ہوا تھا تو Natural Law کا نام لے کر کچھ طبقات کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جاتا تھا۔مثلا ارسطو نے اسی کو جواز بنا کر یونانی شہروں میں کثرت سے پائے جانے والے غلاموں اور ان کو اس پستی کی حالت میں رکھنے کو جائز بلکہ ضروری قرار دیا تھا۔افلاطون نے اسی کو بنیاد بنا کر بعض نسلوں اور شہروں کو بھی کمتر قرار دیا تھا۔عیسائی راہب فلاسفروں میں سے Aquinas اور Saint Augustine نے بھی اس قسم کے نظریات کو بنیاد بنا کر غلامی کا جواز پیدا کیا تھا۔(http//www۔bbc۔co۔uk/ethics/slavery/ethics/philosophers_1۔shtml۔accessed on 26۔9۔2018) لیکن یہ فلسفہ قبل مسیح ادوار میں یا ابتدائی عیسائی راہبوں کے دور میں تو قابل قبول ہوسکتا تھا کہ Natural Law کا نام لے کر انسانوں کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے لیکن فی زمانہ اس فلسفہ کو بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے انہیں پامال 200