احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 199 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 199

راہب Aquinas سے آج کے فلاسفروں تک اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔یہاں ان سب بحثوں کا خلاصہ بیان نہیں کیا جا رہا لیکن اس ضمن میں چند سوالات ضرور اُٹھتے ہیں۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پھر ہر فیصلہ کرنے والے کو اجازت ہو گی کہ وہ Natural Law کا نام لے کر آئین کی خاص طور پر ان شقوں کو جن کا تعلق بنیادی حقوق سے ہے کالعدم قرار دے دے؟ اگر ایسا کیا جائے گا تو پھر وہ دروازہ کھلے گا کہ کوئی بھی بنیادی انسانی حق محفوظ نہیں رہے گا۔دوسرا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آج پاکستان میں مذہب کو بنیاد بنا کر اور Natural Laws کا نام لے کر کچھ طبقات کو بنیادی انسان حقوق سے محروم کیا جاتا ہے تو پھر کیا ایسے ممالک میں جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں، انہیں بھی یہ اختیار ہوگا کہ اپنے مذہب کو بنیاد بنا کر اور Natural Laws کا نام لے کر مسلمانوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیں۔کیا یہ قابل قبول ہوگا ؟ مولوی صاحبان آخر چاہتے کیا ہیں؟ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب 1953ء کی تحقیقاتی عدالت میں مودودی صاحب نے اپنی تصورات کی اسلامی ریاست کے خدو خال بیان کئے تو یہ واضح ہو گیا کہ ان کی اس تصوراتی ریاست میں غیر مسلموں کو دوسرے درجہ کے شہری کی حیثیت حاصل ہوگی۔اس پر عدالت نے ان سے سوال کیا وو اگر ہم پاکستان میں اس شکل کی اسلامی حکومت قائم کر لیں تو کیا آپ ہندوؤں کو اجازت دیں گے کہ وہ اپنے دستور کی بنیاد اپنے مذہب پر رکھیں؟“ اس پر مودودی صاحب نے جواب دیا: یقیناً مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے 199