احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 198
کیا جائے ، یا وکلاء یا Amicus Curiae نے جو دلائل دیئے ہیں کہ احمدیوں کا کلیدی اسامیوں پر کام کرنا مناسب نہیں ہے اور خود انہوں نے اس عدالتی فیصلہ میں اس بات پر بار بار اظہار تشویش کیا ہے کہ احمدی آئینی عہدوں پر یا کلیدی اسامیوں پر مقر نہیں ہو سکتے۔رواج اور Natural Law کا سہارا غالباً جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کو اس بات کا احساس تھا کہ یہ درخواست اور ایسا کوئی بھی ممکنہ قدم کوئی آئینی جواز اپنے اندر نہیں رکھتا۔یہ آئین کی ان شقوں کے خلاف ہے جن کے خلاف قانون سازی کا حق مملکت کے کسی ادارے کو نہیں ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس الجھن سے نکلنے کے لئے اور اس بات کا جواز پیدا کرنے کے لئے انہوں نے اس آخری حوالے میں لکھا ہے کہ اگر غیر مسلم آئینی عہدوں پر کام کرے تو یہ ہمارے Ritual رسم یا رواج اور Natural Law کے خلاف ہوگا۔یہاں اس بحث سے پہلے کہ Ritual اور Natural Law کا مطلب کیا ہے اور اس موقع پر ان کا ذکر کرنا اپنے اندر کوئی قانونی معنی رکھتا بھی ہے کہ نہیں؟ ایک بنیادی سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی Ritual آئین کی بنیادی شقوں کے خلاف ہو تو کیا پاکستان میں آئین پر عمل ہوگا یا پھر ہر کوئی شخص اس بات پر آزاد ہے کہ وہ اپنی مقامی Ritual پر عمل کرتا رہے اور آئین کی خلاف ورزی کرے۔آئین پاکستان کا آغاز ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ کوئی رواج ان بنیادی حقوق کو ختم نہیں کر سکتا جو کہ بنیادی حقوق کے باب میں درج ہیں۔اور جہاں تک اس فیصلہ میں Natural Laws کا تعلق ہے تو اس موضوع پر قدیم زمانے سے اب تک بہت بحثیں ہوئی ہیں۔ارسطو اور افلاطون سے شروع ہوکر پھر عیسائی 198