احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 197
نہیں ہوسکتا تو یہ بات بذات خود پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔یہ بات ماورائے آئین نہیں بلکہ خلاف آئین ہے کیونکہ پاکستان کا آئین یہ ضمانت دیتا ہے اور یہ ضمانت پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 71 (2 ) میں موجود ہے۔اس آرٹیکل کے الفاظ یہ ہیں: کسی شہری کے ساتھ جو باعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرری کا اہل ہو، کسی ایسے تقریر کے سلسلے میں محض نسل ، مذہب ، ذات ، جنس ،سکونت یا مقام پیدائش کی بناء پر امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔“ اور آئین کی شق باب 1 یعنی بنیادی حقوق کے باب میں شامل ہے اور اس باب کا آغاز ( یعنی آئین کے آرٹیکل 8 کا آغاز ) ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے: (1) کوئی قانون، یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، تناقص کی اس حد تک کا لعدم ہو گا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔(2) مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔تو صورت حال یہ ہے کہ آئین کی رو سے کوئی رسم یا رواج اس بنیادی حق کی راہ میں روک نہیں بن سکتا اور مملکت مستقبل میں بھی کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو اس شق کی خلاف ورزی کرے۔اگر مملکت ایسا قانون بنا بھی دے تو وہ اگر ان حقوق سے متصادم ہو جن کا ذکر اس باب میں ہے تو وہ قانون اس حد تک کالعدم ہوگا اور اس پر عمل درآمد کرنا ایک غیر آئینی قدم ہوگا۔درخواست گزاروں نے یہ درخواست دی ہے کہ احمدیوں کو کلیدی اسامیوں سے علیحدہ 197